ریت سے حیرت انگیز حقیقت سے قریب تر مجسمے بنانے والا خود آموز فنکار

ریت سے حیرت انگیز حقیقت سے قریب تر مجسمے بنانے والا خود آموز فنکار


اندونی باستاریکا کا تعلق سپین کے خودمختار باسک ملک  سے ہے۔ وہ ایک ملٹی میڈیا آرٹسٹ ہیں۔ انہوں نے صرف ریت سے حقیقت سے قریب ترین مجسمے بنا کر کافی شہرت  حاصل کر لی ہے
اندونی  اپنے باسک ملک کے ساحلوں پر آنے والے لوگوں کی تفریح کے لیے ریت سے مجسمے بناتے ہیں انہیں یہ کام کرتے ہوئے دس سال ہونے والے ہیں لیکن انہیں شہرت حالیہ دنوں میں  اس وقت ملی جب اُن کے بنائے حقیقی 
زندگی کے سائز کے بیل کے مجسمے کی تصویر ریڈٹ پر  وائرل ہوئی
صرف ریت سے بنائے ہوئے بیل کے اس مجسمے کی تیاری میں اندونی نے باریک ترین جزیات کا خیال بھی رکھا تھا
 اس کے بعد جلد ہی اندونی کے بنائے دوسرے مجسموں کی تصویریں بھی وائرل ہونے لگیں
 باسک  فن کار نے ریت سے مجسمے بنانے کے تجربات 2010ء میں شروع کیے تھے
وہ  اپنے بچوں کے ساتھ ساحل پر آتے اور انہیں تفریح فراہم کرنے کے لیے ایسے مجسمے بناتے
اس پر لوگوں کا رد عمل اتنا مثبت آیا کہ انہوں نے اپنے نئے دریافت کردہ فن پر مزید توجہ مرکوز کر دی انہوں نے اس کے لیے اپنی ہی تیکنیک وضع کیں اس طرح کے مجسمے بنا کر نہ صرف اندونی کا شوق پورا ہوتا ہے بلکہ گرما میں انہیں اضافی آمدن بھی ہو جاتی ہے
عام طور پر اندونی اپنے ہاتھوں سے ریت کے مجسمے بناتے ہیں لیکن جب باریک جزیات کی بات ہو تو وہ سادہ اوزار جیسے برش اور ٹوتھ پک کا استعمال کرتے ہیں
حقیقت کا مزید رنگ بھرنے کےلیے وہ دوسری چیزیں بھی استعمال کرتے ہیں جیسے بیل کے مجسمے میں انہوں نے 
سینگوں کا استعمال کیا ہے۔اندونی  ورکشاپس کا انعقاد بھی کرتے ہیں جہاں وہ لوگوں کو ریت سے مجسمے بنانے کے گُر سکھاتے ہیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

..امریکی خاتون کا بھائی کے نام بھیجا گیا پوسٹ کارڈ33 سال بعد منزل تک پہنچ گی..